ویکیپیڈیا:ویکی املائی منشور


کسی بھی معیاری زبان کی منجملہ خصوصیات میں ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے الفاظ کے املا میں یکسانی پائی جائے، اور دفتری زبانیں عموماً اس خصوصیت سے متصف ہوتی ہیں اور ان کا اپنا معیاری املا موجود ہوتا ہے۔ نیز ہر زبان کو لکھنے کے کچھ متعین قواعد ہوتے ہیں جنھیں قواعد املا کہا جاتا ہے، ان قواعد کے ذریعہ اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کونسا لفظ کس طرح لکھنا درست ہے اور کس طرح غلط۔ املا کے ان قواعد کی تشکیل متعلقہ زبان کے ماہرین انجام دیتے ہیں۔ زبان کے معیاری املا کی تشکیل اور انھیں برقرار رکھنے کے لیے لغات کی ترتیب اور زبان کے انتظام و فروغ کے لیے قومی و لسانی اکادمیاں قائم کی جاتی ہیں۔

اردو چونکہ ایک ایسی زبان ہے جس کی تشکیل میں متعدد زبانوں کا خمیر موجود ہے، مثلاً عربی، فارسی، ترکی، انگریزی، سنسکرت اور متعدد پراکرت اور اپ بھرنش زبانیں؛ اس طرح اردو کا لسانیاتی رشتہ ایک سے زائد لسانی خاندانوں سے جڑا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے اس میں املائی قواعد کی ترتیب و تشکیل ایک مشکل کام رہا ہے، تاہم اردو کے ماہرین لسانیات اور اکادمیوں نے اس رخ پر بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ لیکن چونکہ اردو میں بہت سے الفاظ مختلف و متعدد زبانوں سے آئے ہیں اور اردو میں شامل ہو کر ان کا حلیہ بسا اوقات تبدیل ہو جاتا ہے اس لیے اس کے بعض الفاظ کے متعدد املا بھی رائج ہو جاتے ہیں۔

یہاں اردو ویکیپیڈیا پر اردو تحریروں میں املا و قواعد کی یکسانی کو برقرار رکھنے کے لیے ہم نے متفقہ طور پر سفارشات املا کمیٹی، ترقّی اردو بورڈ کے املا نامہ کو اختیار کیا ہے اور جملہ صارفین اپنی تحریروں میں ان سفارشوں پر عمل کرنے کے پابند ہیں؛ تاہم اگر کسی لفظ کا املا ان سفارشوں کے برخلاف رائج ہو چکا ہو اور قواعد و لسانی مزاج کے خلاف بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں ہم بلا تکلف ان سفارشوں سے اختلاف کرتے ہوئے رائج املا کو ترجیح دیتے ہیں۔ ذیل میں مختلف فیہ یا غلط املا کے متعلق ان سفارشوں کو مختصراً جدول کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔

Other Languages