غلام اسحاق خان

غلام اسحاق خان بنگش
Ghulam IIshaq Khan.jpg
ساتویں صدر پاکستان
عہدہ سنبھالا
17 اگست 1988ء – 18 جولائی 1993ء
نگران تا 12 دسمبر 1988ء
وزیر اعظم بینظیر بھٹو
غلام مصطفیٰ جتوئی (نگران)
نواز شریف
بلخ شیر مزاری (نگران)
نواز شریف
پیشرو محمد ضیاء الحق
جانشین وسیم سجاد
دوسرے چیئرمین سینیٹ
عہدہ سنبھالا
21 مارچ 1985ء – 12 دسمبر 1988ء
پیشرو خان حبیب اللہ خان
جانشین وسیم سجاد
وزیر خزانہ
عہدہ سنبھالا
5 جولائی 1977ء – 21 مارچ 1985ء
صدر فضل الٰہی چوہدری
محمد ضیاء الحق
پیشرو عبدالحفیظ پیرزادہ
جانشین محبوب الحق
ذاتی تفصیلات
پیدائش 20 جنوری 1915(1915-01-20)
اسماعیل خیل، خطۂ افغانستان قبل از تقسیم، بنوں
وفات 27 اکتوبر 2006(2006-10-27) (عمر  91 سال)
پشاور، خیبر پختونخوا، پاکستان
سیاسی جماعت آزاد
مادر علمی جامعہ پشاور
پیشہ کیمیا دان
ماہر معاشیات
مذہب اسلام
ویب سائٹ صدر پاکستان کے سرکاری موقع حبالہ پر آپ کا صفحہ

غلام اسحاق خان بنگش ( 22 فروری، 1915ء تا 27 اکتوبر، 2006ء) پاکستان کے سابق صدر تھے۔ انہوں نے سیاست میں آنے سے بہت پہلے سرکاری عہدوں پر خدمات سر انجام دیں ۔ ضلع بنوں کے ایک گاؤں اسماعیل خیل میں ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پشتونوں کے بنگش قبیلے سے تھا ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پشاور سے کیمسٹری اور باٹنی کے مضامین کے ساتھ گریجویشن کی۔انیس سو چالیس میں انڈین سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔

ملازمت

صوبہ خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی کے سیکرٹری اور ہوم سیکرٹری جیسے کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔ قیام پاکستان کے بعد سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔1955 میں جب ون یونٹ کے تحت مغربی اور مشرقی پاکستان کے نام سے دو صوبے بنائے گئے تو غلام اسحاق خان مغربی پاکستان کے سکریٹری آبپاشی مقرّر ہوئے۔ اس حیثیت میں پاکستان بھارت دریائی پانی کی تقسیم کے معاملات میں وہ سرکاری معاونت کرتے رہے۔ 196ٍ1 میں پانی و بجلی کے وسائل کی ترقی اور نگرانی کے ادارے واپڈا کے سربراہ بنے اور 1965 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اس کے بعد پانچ برس سے زائد عرصے تک سیکرٹری خزانہ رہے۔

بطور سکریٹری خزانہ بھی وہ اتنے بااثر تھے کہ بیس 20 دسمبر 1971 کی جس تصویر میں شکست خوردہ یحیٰ خان ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کررہے ہیں اس تصویر میں تیسرے آدمی غلام اسحاق خان ہیں جو اقتدار کی منتقلی کی دستاویز پر دستخط کروا رہے ہیں۔ بھٹو حکومت کی تشکیل کے بعد غلام اسحاق خان انیس سو پچہتر تک گورنر اسٹیٹ بینک کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے۔

اس کے بعد غلام اسحاق خان کو سکریٹری جنرل دفاع کا قلمدان دے دیا گیا۔اس حیثیت میں وہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بھی نگراں رہےاور ان کے فوج کی اعلیٰ قیادت سے بھی براہ راست تعلقات استوار ہوئے۔1977 میں جب جنرل ضیا الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹا تو غلام اسحاق خان پہلے مشیرِ خزانہ اور پھر وزیرِ خزانہ بنائے گئے اور انہوں نے معیشت کو اسلامی طرز پر ڈھالنے کے جنرل ضیا کے ایجنڈے میں معاونت کی۔ ملک کے لیے خدمات کے پیش نظر انہیں ستارہ پاکستان اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

Other Languages