خلافت امویہ

خلافت امویہ
خلافت امویہ
الخلافة الأموية
Al-Khilāfah al-ʾUmawiyyah (عربی زبان میں)

 

 

661–750
 

پرچم[1]

خلافت امویہ اپنے عروج پرآ
دارالحکومتدمشق
(661–744)
حران
(744–750)
جلاوطن پایۂ تختقرطبہ
(756–1031)
زبانیںعربی (سرکاری) – قبطی, یونانی، فارسی ( عبدالملک بن مروان کے عہد تک کچھ علاقوں میں سرکاری) – آرامی، آرمینیائی، بربر، افریقی رومانس، جارجیائی، ترکی، کردی، پراکرت
مذہباسلام
حکومتخلافت
خلیفہ
 - خلیفہ اول: 661ء تا 680ءمعاویہ بن ابو سفیان
 - خلیفہ آخر: 744ء تا 750ءمروان بن محمد بن مروان
تاریخ
 - آغاز: معاویہ بن ابو سفیان کا خلیفہ بننا661
 - خاتمہ:مروان بن محمد بن مروان کی خلافت عباسیہ کے ہاتھوں شکست اور موت750
رقبہ
 - 750 عیسوی (132 ہجری)15,000,000 مربع کلومیٹر (5,791,532 مربع میل)
آبادی
 - 750 عیسوی (132 ہجری) تخمینہ34,000,000 
سکہطلائی دینار اور درہم
موجودہ ممالک
Warning: Value specified for "continent" does not comply

بنو ہاشم کی طرح بنو امیہ بھی قریش کا ایک ممتاز اور دولت مند قبیلہ تھا، اسی خاندان نے خلافت راشدہ کے بعد تقریباًً ایک صدی تک خلافت سنبھالی اور اسلامی فتوحات کو بام عروج پر پہنچایا۔ جس کی سرحدیں ایک طرف چین اور دوسری طرف اسپین تک پھیلی ہوئی تھیں۔ البتہ مرکزی خلافت کے خاتمے کے باوجود اس خاندان کا ایک شہزادہ عبدالرحمن الداخل اسپین میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ جہاں 1492ء تک اموی سلطنت قائم رہی۔

پس منظر

قریش کے تمام خاندانوں میں سے بنی ہاشم اور بنو امیہ کو عظمت و شہرت اور دنیاوی وجاہت کے اعتبار سے نمایاں مقام حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ قبائلی دور ہونے کی وجہ سے زمانۂ جاہلیت میں کبھی بنو ہاشم سبقت لے جاتے اور کبھی بنو امیہ۔ بنی ہاشم اور بنی امیہ میں مدت تک تولیت کعبہ کی سرداری کے سلسلے میں تنازعہ رہا۔ آخر بااثر لوگوں کی مداخلت سے ان دونوں میں انتظامی مامور تقسیم کردیے گئے ۔

اس خاندان کے جد اعلیٰ امیہ بن عبد شمس تھے۔ قریش کا سپہ سالاری کا منصب بنی مخزوم سے اس خاندان میں منتقل ہو گیا۔ زمانۂ جاہلیت میں سپہ سالاری کا عہدہ اس خاندان میں سے حرب بن امیہ اور پھر ابو سفیان کے پاس رہا۔ ابو سفیان نے فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر لیا اور ان کے بیٹے امیر معاویہ کے ذریعے بنو امیہ کی حکومت کی بنیاد پڑی۔

خلفائے راشدین کے زمانے میں بنو امیہ نے بڑے کارنامے سرانجام دیے۔ عمر فاروق کے دور میں امیر معاویہ دمشق کے گورنر بنے اور عثمان غنی کے دور میں وہ پورے صوبہ شام کے گورنر بنادیے گئے۔ عثمان کی شہادت کے بعد 35ھ میں امیر معاویہ نے قصاص عثمان کے لیے آواز اُٹھائی اور مرکزی حکومت سے خود مختار ہوگئے۔ جنگ صفین کے بعد مسلم ریاست دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ آدھی خلافت جو علی کے پاس رہی اور آدھی ملوکیت یا بادشاہت جو امیر معاویہ کے ہاتھ میں رہی۔ علی کی شہادت کے بعد حسن خود حکومت سے دست بردار ہوئے اس طرح امیر معاویہ مکمل اسلامی ریاست کے بادشاہ بن گئے۔

Other Languages
aragonés: Omeya
asturianu: Califatu Omeya
azərbaycanca: Əməvilər xilafəti
Bân-lâm-gú: Umayya Khalifah-kok
беларуская: Амеядскі халіфат
български: Умаяди
brezhoneg: Omeyad
català: Omeies
čeština: Umajjovci
español: Califato Omeya
français: Omeyyades
Bahasa Indonesia: Kekhalifahan Umayyah
italiano: Omayyadi
עברית: בית אומיה
Basa Jawa: Bani Umayah
қазақша: Умәйя әулеті
magyar: Omajjádok
македонски: Омејади
Bahasa Melayu: Kerajaan Bani Umaiyah
Nederlands: Omajjaden
日本語: ウマイヤ朝
norsk: Umajjadene
norsk nynorsk: Omajadekalifatet
occitan: Califat Omeia
oʻzbekcha/ўзбекча: Umaviylar
português: Califado Omíada
Simple English: Umayyad Caliphate
slovenščina: Umajadski kalifat
српски / srpski: Омејадски калифат
srpskohrvatski / српскохрватски: Omejadski Kalifat
татарча/tatarça: Өмәвиләр хәлифәте
Türkçe: Emevîler
Tiếng Việt: Nhà Omeyyad
Lingua Franca Nova: Califia Umaian