جہاد

{ڈاکٹر سید بادشاہ میڈیکل سپیشلسٹ سابق امیر جماعت اسلامی ضلع مردان {نقل چسپاں|date=جون 2017}}

جہاد سے مراد کسی نیک کام میں انتہائی طاقت و کوشش صرف کرنا اور ہر قسم کی تکلیف اور مشقت برداشت کرنا ہے۔

جہاد کا لفظی معنی

امام راغب اصفہانی جہاد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اَلْجِهَادُ والْمُجَاهَدَةُ : اِسْتِرَاغُ الْوُسْعِ فِيْ مُدَافَعَةِ العُدُوِّ. (راغب الصفهانی، المفردات : 101)

ترجمہ: دشمن کے مقابلہ و مدافعت میں فوراً اپنی پوری قوت و طاقت صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔

جہاد اورآزمائش

جہاں دوسری جنگوں میں دنیا دار قوموں کے دل گوناگوں دنیاوی اور نجی اغراض و مقاصد سے لبریز ہوتے ہیں۔ کہیں ملک گیری کی ہوس کارپرداز ہوتی ہے، کہیں مال و دولت اکٹھا کرنے کی حرص کا غلبہ ہوتا ہے تو کہیں نام و نمود اور شہرت و نام وری کی آرزو زمزمہ پرداز ہوتی ہے وہاں مومن کا جہاد فی سبیل اللہ خالصتاَ ایک للہیٰ عمل ہے۔ مجاہد کا دل ذاتی اغراض سے پاک اور صرف رضائے الہیٰ کی تمنا لیے ہوتا ہے۔ اسے نہ مال و دولت سے غرض ہوتی ہے نہ غنیمت کی آرزو، نہ جاہ و جلال کا عارضہ لاحق ہوتا ہے ،نہ نام و نمود کی ہوس۔ وہ فقط کفر و باطل کے قلعے کو مسمار کرکے اور طاغوتی قوتوں کو مٹا کر خدا کی زمین پر خداکی حکومت قائم کرنے کے لیے ہی اپناتن من دھن کی بازی لگاتا ہے۔ وہ اس عارضی ٹھکانے کو ظلم و ستم سے پاک کرنے کی تمنا میں ہی جنگ و جدل کی صعوبتوں کو لبیک کہتا ہے اور قربانیوں پر قربانیاں دیتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ یا تو جام شہادت پی کر واصل بحق ہو جاتا ہے یا فتح مند ہو کر اس خاکدان کو انوار الٰہی سے منور کر دیتا ہے۔ اللہ کے وجود پر یقین کرنا تو اس قدر مشکل نہیں۔ اللہ کی اس ساری کائنات کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ باور کرلے کہ اس کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں البتہ قیامت پر یقین پیدا کرنا ایمان ہی کی دولت سے ممکن ہو سکتا ہے اورایمان اللہ کی دین ہے جسے چاہے دے، اس میں شک نہیں کہ اس کائنات اور اس کے اصولوں کو بغور دیکھنے سے قیامت کا وجود یقینی طور پر نظر آ سکتا ہے مگر یہ علم بھی اسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، جس کا سینہ ایمان کی روشنی سے منور ہو۔ تاہم قیامت کا یقین ہی تو ہے جو انسان کو گناہوں سے باز رکھتا ہے اور نیکی پر مائل کرتا ہے اور اسی قیامت کے یقین کے سبب ایک سپاہی شہادت کی طلب میں موت کی آغوش کو اپنی بہترین پناہ تصور کرتا ہے اور ایک دانائے راز سمجھتا ہے کہ وہ خدا جس نے اس کائنات کو عدل پر پیدا کیا، یہ کیسے برداشت کر سکتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے گناہوں اور اپنی نیکیوں کا بدلہ نہ دیا جائے اور یہ بدلہ موت کے بعد قیامت میں ہی دیا جا سکتا ہے، اس زندگی میں تو دکھ اور خوشی عمل کی بنا پر بعض اوقات نہیں حاصل ہوتے۔ بعض بدکردار دندناتے پھرتے ہیں اور بعض نیکوکار رنج و مصائب میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’ جو کوئی محنت کرتا ہے وہ اپنے ہی لیے محنت کرتا ہے بے شک اللہ تعالیٰ سارے عالم سے بے نیاز ہے ‘‘۔ ( العنکبوت 6 )۔ آدمی جہاد کرے یا کوئی دوسرا نیک عمل کرے ،اس میں سراسر اس کی اپنی بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ تو بہت بڑا غنی ہے اور انسان تو جہاں ایک طرف عمل کا پابند ہے دوسری طرف اللہ کے فضل کا بھی محتاج ہے اور حق بات تو یہ ہے کہ انسان کو عمل کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ہمیں دو سبق حاصل ہوتے ہیں پہلا یہ کہ عمل کے بغیر کچھ نہیں ملتا البتہ فضل خداوندی کامعاملہ اس سے مستثنیٰ ہے، دوسرا یہ کہ محتاج اللہ نہیں بلکہ محتاج بندہ ہے اور جو محتاج ہوتا ہے وہ اپنی حاجت کے حصول کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ساتھ فرما دیا۔ ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے ،ہم ان کے گناہ ان سے دور کرکے رہیں گے اور ہم ان کو ان کے اعمال کا زیادہ اچھا بدلہ دے کر رہیں گے۔ (العنکبوت 7 ) تو گویا کہ نیک کام کرنے سے آدمی کے گناہ بھی دھلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نیکی کا بدلہ استحقاق سے بھی زیادہ دیتے ہیں۔ ساری تجارتو ں سے بہترین تجارت جہاد ہے۔ جہاد کرنے والا جہاد کے بدلے اللہ کی مغفرت اور جنت خریدتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات نصیب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ’’اے ایمان والو! میں تم کو ایسی سوداگری بتاؤں جو تمہیں ایک دردناک عذاب سے بچائے۔ اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں مال اور جان سے لڑو اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ وہ تمہارے گناہ بخشے گا اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور باغوں کے اندر ستھرے مکان ہوں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے او ر ایک اور چیز بھی جسے تم بہت چاہتے ہو اور وہ ہے اللہ کی طرف سے مدد عنقریب اور خوشی سنا دے ایمان والوں کو، اے ایمان والو! تم اسی طرح اللہ کے مددگار ہو جاؤ۔ جس طرح کہ عیسیٰ ابن مریم نے اپنے حواریوں سے کہا کون ہے جو اللہ کی راہ میں میری مدد کرے گا تو انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ ( الصف 10 تا 14)۔ جہاد کے ظاہری فائدے یا تکالیف تو ہر آدمی کو نظر آ سکتے ہیں لیکن جہاد کے حقیقی فائدے باطنی ہیں جن کا تعلق آخرت سے ہے اور جو نظر نہیں آتے مگر اس آدمی کو نظر آ سکتے ہیں جس کا ایمان کامل ہو اور آخرت پر اس کا یقین ہو ۔

Other Languages
العربية: جهاد
فارسی: جهاد
English: Jihad
Afrikaans: Djihad
aragonés: Alchihad
অসমীয়া: জিহাদ
asturianu: Yihad
azərbaycanca: Cihad
تۆرکجه: جیهاد
বাংলা: জিহাদ
Bân-lâm-gú: Jihad
български: Джихад
bosanski: Džihad
català: Gihad
Cebuano: Dyihad
čeština: Džihád
Cymraeg: Jihad
dansk: Jihad
Deutsch: Dschihad
eesti: Džihaad
Ελληνικά: Τζιχάντ
español: Yihad
Esperanto: Ĝihado
euskara: Jihad
français: Djihad
Gaeilge: Jiohád
galego: Xihad
ગુજરાતી: જિહાદ
한국어: 지하드
Հայերեն: Ջիհադ
हिन्दी: जिहाद
hrvatski: Džihad
Bahasa Indonesia: Jihad
interlingua: Jihad
íslenska: Jihad
italiano: Jihād
עברית: ג'יהאד
Basa Jawa: Jihad
қазақша: Жиһад
Kiswahili: Jihadi
kurdî: Cîhad
Кыргызча: Жыхад
Latina: Gihad
latviešu: Džihāds
lietuvių: Džihadas
magyar: Dzsihád
മലയാളം: ജിഹാദ്
Bahasa Melayu: Jihad
Nederlands: Jihad
日本語: ジハード
norsk: Jihad
norsk nynorsk: Jihad
occitan: Jihad
oʻzbekcha/ўзбекча: Jihod
ਪੰਜਾਬੀ: ਜਿਹਾਦ
پنجابی: جہاد
polski: Dżihad
português: Jihad
română: Jihad
русский: Джихад
shqip: Xhihadi
sicilianu: Jihad
සිංහල: ජිහාඩ්
Simple English: Jihad
slovenčina: Džihád
slovenščina: Džihad
Soomaaliga: Jihaad
српски / srpski: Џихад
srpskohrvatski / српскохрватски: Džihad
Basa Sunda: Jihad
suomi: Jihad
svenska: Jihad
Tagalog: Jihad
தமிழ்: ஜிகாத்
татарча/tatarça: Җиһад
తెలుగు: జిహాద్
ไทย: ญิฮาด
тоҷикӣ: Ҷиҳод
Türkçe: Cihat
українська: Джихад
Tiếng Việt: Jihad
文言: 聖戰
吴语: 吉哈德
粵語: 聖戰
中文: 吉哈德