جنسی ہراسانی

راجستھان ریاستی کمیشن پرائے خواتین کے ایک خط کا عکس جس میں جنسی ہراسانی پر آمادہ ایک لیکچرار کی زیادتی کا تذکرہ ملتا ہے۔

جنسی ہراسانی سے مراد ملازمت یا رشتے داری یا کسی اور وجہ سے جس سے کہ کسی فرد کو دوسرے شخص پر بالادستی حاصل ہو، یوں ناجائز طور جنسی معاملوں میں پریشان کرے، تکلیف پہنچائے یا غیر رضاکارانہ طور پر اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کرے۔ حالانکہ جنسی ہراسانی کے واقعات دفاتر، اسکول، کالج، ہاسٹل، یتیم خانوں، بیواؤں کے لیے خصوصی رہائشوں، حتی کہ گھروں وغیرہ پر بھی سامنے آئے ہیں، مگر ہراسانی کے سب سے زیادہ معاملے کام کی جگہ پر دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان واقعات کی شکار کئی خواتین ہوچکی ہیں اور آج بھی ہو رہی ہیں حالانکہ قوانین، عدالتی فیصلے اور خودان واقعات کے رونما ہونے سے روکنے کے لیے کئی ادارہ جاتی کوششیں کی گئی ہیں۔

جنسی ہراسانی کی شکلیں

جنسی ہراسانی حسب ذیل شکلیں لے سکتی ہے:

  • کوئی بھی غیر ضروری اور مشتعل کرنے والی جنسی پہل۔
  • راست یا بالواسطہ طور پر جنسی کارگزاری کو ترقی یا آگے پڑھنے کے لیے ضروری بنانا۔
  • جنسی طور پر نامناسب تبصرے کرنا۔
  • واضح طور جنسی اعمال کو دیگر ملازمین کے سامنے لانا۔
  • غیر ضروری چھونا۔
  • یہ سجھانا کہ جنسی طور پر مشتعل کرنے والے کپڑوں کو کام کی جگہ پہن کرنا آنا ضروری ہے۔[1]
Other Languages
العربية: تحرش جنسي
فارسی: آزار جنسی
dansk: Sexchikane
español: Acoso sexual
euskara: Sexu jazarpen
galego: Acoso sexual
한국어: 성희롱
Bahasa Indonesia: Pelecehan seksual
Bahasa Melayu: Gangguan seksual
português: Assédio sexual
Simple English: Sexual harassment
Tiếng Việt: Quấy rối tình dục
粵語: 性騷擾
中文: 性骚扰