جا رگ تراکل

جا رگ تراکل (Georg Trakl)/ جرمن، اسٹریا

آمد:3،فروری 1887۔۔۔۔ رخصت: 3، نومبر 1914

سیلزبرگ/اسٹریا میں پیدا ھوئے۔جرمن زبان میں شاعری کی۔

شاعرانہ رویے: اظہاریت، علامت نگاری (فرانسیسی علامت پسندوں سے متاثر)

انھوں نے کیتھولک اسکول مین تعلیم حاصل کی حا لانکہ ان کے والدیں کا تعلق "احتجاجی کلیسا" (پورٹسنٹ چرچ) سے تھا۔ اسکول میں لاطینی، یونانی اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی۔ 15 سال کی عمر میں شراب نوشی اور نشہ ادویات کی لت میں گرفتار ھوئے۔ وہ " انتشار نفس"(schizophrenia)کے مریض رہے۔جامعہ ویانا میں علم ادویات کا مطالعہ کیا۔ پھر سرکاری ملازمت اختیار کی۔ طبی اردلی رہے۔ پھر کچھ دنوں بعد دوبارہ سرکاری ملازمت میں واپس آ گئے۔ انھوں نے "گرڈک" کے میدان میں فوجیوں کے لیے خدمات انجام دیں۔ جارگ تراکل نے دو بار خودکشی کی کوشش کی۔ 1914 میں انھوں نے زیادہ کوکیں کھاکر خودکشی کی۔ ان کی شاعری میں علامتیں، تمثال، قنوطیت کا گہرا احساس ایک ایسی شعری جمالیات کو خلق کرتے ہیں۔ جہان فرد ایک اذیّت ناک غنودگی میں دم توڑ رہا ہے۔ ان کی شاعری کا خلیقہ نادر علامتوں کی تشکیلات ہیں ۔۔ ان کی شاعری میں علامتیں، تمثال، قنوطیت کا گہرا احساس ایک ایسی شعری جمالیات کو خلق کرتے ہیں۔ جہان فرد ایک اذیّت ناک غنودگی میں دم توڑ رہا ہے۔ ان کی شاعری کا خلیقہ نادر علامتوں کی تشکیلات ہیں۔ انھوں نے پختہ رویوں کی شاعری کی۔ انکی ایک تصنیف ‘"خواب نگر" ( TRAUMLAND) عشقیہ انسانی جذبات اور موت کی دہشت پسندانہ آگاہی کو بڑے فنکارانہ شعری ہنر مندی سے پیش کیا۔ اس نظم کو پڑھ کر نواب مرزا شوق کی اردو مثنوی۔۔"زہر عشق"۔۔ کا گمان ہوتا ہے۔ اس نظم کا بیانیہ کا نفسی کیفیات جارج تراگل کے ""خواب نگر" خاصا مشابئہ بھی ہے۔ اس نظم میں تراکل نے اپنے ایک عم زاد کو منظوم قصہ بیان کیا ہے جو ایک مرتی ھوئی لڑکی کے عشق میں گرفتار ھوجاتا ہے۔ اس نظم کی جذباتی اور حساسی فضا قاری کی آنکھوں میں آنسو بھر دیتا ہے۔ تراکل نے دو (2) مختصر ڈرامے بھی لکھے۔ جارج تراکل کے چار (4) مجموعہ کلام شائع ھوئے:Gedichte (Poems), 1913Sebastian im Traum (Sebastian in the Dream), 1915Der Herbst des Einsamen (The Autumn of The Lonely), 1920Gesang des Abgeschiedenen (Song of the Departed), 1933

ان کی تقریبا تمام شاعری انگریزی میں ترجمہ ھو چکی ہیں:

Decline: 12 Poems, trans. Michael Hamburger, Guido Morris / Latin Press, 1952Twenty Poems of George Trakl, trans. James Wright & Robert Bly, The Sixties Press, 1961Selected Poems, ed. Christopher Middleton, trans. Robert Grenier et al., Jonathan Cape, 1968[6]Georg Trakl: Poems, trans. Lucia Getsi, Mundus Artium Press, 1973Georg Trakl: A Profile, ed. Frank Graziano, Logbridge-Rhodes, 1983Song of the West: Selected Poems, trans. Robert Firmage, North Point Press, 1988The Golden Goblet: Selected Poems of Georg Trakl, 1887–1914, trans. Jamshid Shirani & A. Maziar, Ibex Publishers, 1994Autumn Sonata: Selected Poems of Georg Trakl, trans. Daniel Simko, Asphodel Press, 1998Poems and Prose, Bilingual edition, trans. Alexander Stillmark, Libris, 2001 Re-edition: Poems and Prose. A Bilingual Edition, Northwestern University Press, 2005

To the Silenced: Selected Poems, trans. Will Stone, Arc Publications, 2006In an Abandoned Room: Selected Poems by Georg Trakl, trans. Daniele Pantano, Erbacce Press, 2008Song of the Departed: Selected Poems of George Trakl, trans. Robert Firmage, Copper Canyon Press, 2012"Uncommon Poems and Versions by Georg Trakl", trans. James Reidel, Mudlark No. 53, 2014

"گروڈگ"**

دھندلکے میں خزان زدہ لکڑیاں بجتی ہیںسنہری زمین پر ہلاک زدہ ہتھیار بکھر جاتے ہیںنیلا سمندر ـــ آسمان پر سورج ہےتاریکی میں لپٹی رات گلے لگاتی ہےعالم نزع سے نبرآزما ایک وحشی الزاماس کے ھونٹوں سے جدا کردیتا ہےمگر سبک ندی کے ساتھسنہری دھندلکا' عضیلے دیوتاؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتااور گرا ھوا خون 'بے سرد چاندتمام سڑکین' بدبو دار تاریکی کے پیچھےپیڑوں اور بدروحوں کے درمیان میری بہن کا سایہ ہےبرف باری ایک ہیبت ناک موت ہےوہاں ژالہ باری سے جذبات خون ھوتے ہیںخزان میں لپٹی ھوئی بانسری کی مدھر دھنمغرور دکھ تم پیتل کی مقتل گاہ ھوھماری روحوں کا شعلہ اس خشک دکھ کو محسوس کرتا ہےہمارے اجداد ابھی پیدا نہیں ھوئے

    • "گروڈک"۔۔۔ میدان جنگ' جہاں اسٹریا کی فوج کو شکست ہوئی"۔

"ماتم"نیند اور موتاداس عقاب، تمام شب زہن میں شور مچاتا ہےوہ آدمی کا سنہری عکس ہےابابیل کے پاس کبھی نہ ختم ھونے والی زندگی ہےابدیت کی پرسرار چٹانقرمزی جسم پاش پاش ہوتا ہےاور سیاہ آواز ماتم کرتی ہےبہن کی گہری اداسی ـــستاروں میںچھوٹی کشتی ڈوب رھی ہےرات کا چہرہ خاموش ہےتحریر و ترجمہ: احمد سھیل) یہ مضمون۔ ادب لطیف" لاہور میں چھپ چکا ہے۔

Other Languages
العربية: جورج تراكل
English: Georg Trakl
تۆرکجه: قئورق تراکل
беларуская: Георг Тракль
беларуская (тарашкевіца)‎: Георг Тракль
български: Георг Тракъл
català: Georg Trakl
čeština: Georg Trakl
Deutsch: Georg Trakl
Ελληνικά: Γκέοργκ Τρακλ
español: Georg Trakl
Esperanto: Georg Trakl
euskara: Georg Trakl
français: Georg Trakl
Հայերեն: Գեորգ Թրակլ
hrvatski: Georg Trakl
italiano: Georg Trakl
ქართული: გეორგ თრაქლი
latviešu: Georgs Trākls
Lëtzebuergesch: Georg Trakl
magyar: Georg Trakl
Nederlands: Georg Trakl
norsk nynorsk: Georg Trakl
polski: Georg Trakl
português: Georg Trakl
română: Georg Trakl
русский: Тракль, Георг
slovenčina: Georg Trakl
slovenščina: Georg Trakl
srpskohrvatski / српскохрватски: Georg Trakl
svenska: Georg Trakl
Türkçe: Georg Trakl
українська: Георг Тракль