برنرڈ-ہنری لیوی

Bernard-Henri Lévy
(فرانسیسی میں: Bernard-Henri Lévy خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Bernard-Henri Lévy in 2011
Bernard-Henri Lévy in 2011

معلومات شخصیت
پیدائش5 نومبر 1948ء (عمر 70 سال)
شہریتFlag of France.svg فرانس[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمیÉcole Normale Supérieure
استادژاک دریدا،  لوئی التھیوز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
پیشہفلسفی،  مصنف،  ناشر،  فلم ہدایت کار،  منظر نویس،  صحافی،  ناول نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبانفرانسیسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبانفرانسیسی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عملفلسفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
مؤثرژاں پال سارتر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹباضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

برنرڈ-ہنری لیوی ایک فرانسیسی عوامی دانشور، ذرائع ابلاغ کی شخصیت اور مصنف ہیں۔ وہ عوام میں اس درجے اور اس حد تک مقبول ہیں کہ فرانسیسی کے تین حروف بی، ایچ اور ایل کا یک جا استعمال عوام کو اس بات سے آگاہ کر دیتا ہے کہ یہ اشارہ کس کی جانب ہے۔

عظیم انکشافات

بہت سارے معروف انکشافات میں برنرڈ-ہنری لیوی کا یہ دعوٰی بھی ہے کہ امریکی صحافی ڈینیئل پرل کو اس لیے اغواء اور قتل کیا گیا کیونکہ انہیں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے مبینہ دہشت گرد رچرڈ ریڈ اور پاکستانی خفیہ اداروں کے مابین رابطوں کا علم ہو گیا تھا۔[3]

اسی طرح معمر قذافی کے بارے نیٹو کی فوجی مداخلت کے لیے ان کی مہم کے بارے میں ان یہ کہنا تھا کہ کرنل قذافی نے جنگ کی منصوبہ بندی کی اور اس کو مسلط کیا تھا میں نے تو صرف نیٹو کی مداخلت کی حمایت کی تھی۔[4]

Other Languages