اسرائیل

ریاست اسرائیل
  • מְדִינַת יִשְׂרָאֵל ( عبرانی)
  • دَوْلَة إِسْرَائِيل ( عربی)
Centered blue star within a horizontal triband
Centered menorah surrounded by two olive branches
پرچم ایمبلم
ترانہ: " Hatikvah" ( سانچہ:Langnf)

Location of Israel (in green)
Location of Israel
دار الحکومت یروشلم بین الاقوامی سطح پر متنازع
سب سے بڑا شہر دار الحکومت
دفتری زبانیں
نسلی گروہ (2016 [1])
  • 74.8% یہود
  • 20.8% عرب
  • 4.4% دیگر
نام آبادی اسرائیلی
حکومت وحدانی پارلیمانی جمہوریہ
•  صدر
رووین رولین
•  وزیراعظم
بنیامین نیتنیاہو
مقننہ اسرائیلی پارلیمنٹ
آزاد
•  اعلان
14 مئی 1948
•  منظوری
11 مئی 1949
رقبہ
• کل
20,770–22,072 kمیٹر2 (8,019–8,522 مربع میل) [a] ( 149واں)
• آبی
440 kمیٹر2 (170 مربع میل)
• آبی (%)
2.12%
آبادی
• 2016 تخمینہ
8,541,000 [2] ( 98واں)
• 2008 مردم شماری
7,412,200 [3] ( 99واں)
• کثافت
387٫63/کلو میٹر2 (1,004٫0/مربع میل) ( 34واں)
خام ملکی پیداوار ( مساوی قوت خرید) 2016 [4] تخمینہ
• کل
$297.046 بلین ( 55واں)
• فی کس
$34,833 ( 33rd)
خام ملکی پیداوار (برائے نام) 2016 [4] تخمینہ
• کل
$311.739 بلین ( 35th)
• فی کس
$36,556 ( 23واں)
جینی (2012) 42.8 [5]
متوسط ·  106واں
انسانی ترقیاتی اشاریہ (2014) Increase2.svg 0.894 [6]
انتہائی اعلی ·  18واں
کرنسی New shekel (‎) ( ILS)
منطقۂ وقت IST ( متناسق عالمی وقت+2)
IDT ( متناسق عالمی وقت+3)
تاریخ ہیئت
  • אא-בב-גגגג ( AM)
  • dd-mm-yyyy ( CE)
ڈرائیونگ سمت right
کالنگ کوڈ +972
انٹرنیٹ ڈومین ۔il
۔ישראל
  1. ^ 20,770 is Israel within the Green Line۔ 22,072 includes the annexed Golan Heights اور East Jerusalem۔

اسرائیل ( عبرانی: יִשְׂרָאֵל) مغربی ایشیا کا ایک ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں لبنان، شمال مشرق میں شام، مشرق میں اردن، مشرق اور جنوب مشرق میں فلسطین اور جنوب میں مصر، خلیج عقبہ اور بحیرہ احمر واقع ہیں۔ اسرائیل خود کو یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے اور دنیا میں واحد یہود اکثریتی ملک ہے۔

29 نومبر، 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا۔ 14 مئی، 1948ء کو ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے ملک کے قیام کا اعلان کیا۔ 15 مئی، 1948ء کو یعنی اعلان آزادی کے اگلے روز کئی ہمسائیہ ممالک نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ بعد کے برسوں میں بھی کئی بار اسرائیل کے ہمسائیہ ممالک اس پر حملہ کر چکے ہیں۔

اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہے جبکہ سب سے زیادہ آبادی اور صدر مقام یروشلم کو کہا جاتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانا جاتا۔

نسلی اعتبار سے اسرائیل میں اشکنازی یہودی، مزراہی یہودی، فلسطینی، سفاردی یہودی، یمنی یہودی، ایتھوپیائی یہودی، بحرینی یہودی، بدو، دروز اور دیگر بے شمار گروہ موجود ہیں۔ 2014ء میں اسرائیل کی کل آبادی 8146300 تھی۔ ان میں سے 6110600 افراد یہودی ہیں۔ اسرائیل کا دوسرا بڑا نسلی گروہ عرب ہیں جن کی آبادی 1686000 افراد پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ مسیحی اور افریقی ممالک سے آنے والے پناہ گزین اور دیگر مذاہب کے افراد بھی یہاں رہتے ہیں۔

اسرائیل میں نمائندہ جمہوریت ہے اور پارلیمانی نظام چلتا ہے۔ حق رائے دہی سب کو حاصل ہے۔ وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے اور یک ایوانی پارلیمان ہے۔ اسرائیل ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور دنیا کی 43ویں بڑی معیشت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں معیار زندگی کے اعتبار سے اسرائیل سب سے آگے ہے اور ایشیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دنیا میں اوسط زیادہ سے زیادہ عمر کے حوالے سے اسرائیل دنیا کے چند بہترین گنے چنے ممالک میں شامل ہے۔

تاریخ

دور قدیم

سرزمین اسرائیل کی اصطلاح قدیم زمانے سے ہی یہودی لوگوں کے لیے مقدس اور اہم رہی ہے۔ توریت کے مطابق خدا نے یہودی لوگوں کے تین قبائل کو اس سرزمین کا وعدہ کیا تھا۔

قرون وسطیٰ

635ء میں یروشلم سمیت یہ سارا علاقہ عربوں نے فتح کر لیا۔ اگلے 1300 سال تک یہ علاقہ مسلمانوں کے زیر انتظام رہا اورپہلے چھ سو سال تک اموی، عباسی اور صلیبی جنگجو اس پر باری باری قابض ہوتے رہے۔ 1260ء میں مملوک خاندان نے یہاں قبضہ کر لیا۔

1516ء میں عثمانی سلطان نے یہاں قبضہ کر لیا اور یہ علاقہ پہلی جنگ عظیم تک ترکی کے زیر انتظام رہا۔ جنگ کے اختتام پر ترکی کی شکست کے ساتھ ہی یہاں برطانیہ نے قبضہ کر لیا۔ 1920ء میں اس علاقے کو تقسیم کیا۔

آزادی اور ابتدائی سال

دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کو یہودی لوگوں سے مسائل شروع ہو گئے جنہوں نے برطانوی راج کے خلاف احتجاج شروع کر دیا تھا۔ اسی وقت مرگ انبوہ سے بچنے والے لاکھوں افراد اور ان کے خاندان والوں نے یورپ میں اپنے تباہ شدہ گھروں سے دور اپنا وطن تلاش کرنا شروع کر دیا تاہم برطانوی حکومت انہیں زبردستی دوسری جگہوں کے کیمپوں میں بھیج دیتی تھی۔ 1947ء میں برطانیہ نے اعلان کیا کہ وہ کوئی ایسا حل تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے کہ جس پر عرب اور یہودی دونوں متفق ہو سکیں، اس لیے وہ اس علاقے سے انخلا کے بارے سوچ رہا ہے۔

15 مئی 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کے لیے ایک نئی کمیٹی بنائی۔ 3 ستمبر 1947ء کو اس کمیٹی نے رپورٹ پیش کی کہ برطانوی انخلا کے بعد اس جگہ ایک یہودی اور ایک عرب ریاست کے ساتھ ساتھ یروشلم کے شہر کو الگ الگ کر دیا جائے۔ یروشلم کو بین الاقوامی نگرانی میں رکھا جائے گا۔ 29 نومبر 1947ء کو جنرل اسمبلی نے اس بارے قرار دار منظور کی ۔

یہودیوں کی نمائندہ تنظیم جیوش ایجنسی نے اس منصوبے کو قبول کر لیا لیکن عرب لیگ اور فلسطین کی عرب ہائیر کمیٹی نے اسے مسترد کر دیا۔ یکم دسمبر 1947 کو عرب ہائی کمیٹی نے تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا اور عربوں نے یہودیوں پر حملے شروع کر دیے۔ ابتدا میں خانہ جنگی کی وجہ سے یہودیوں نے مدافعت کی لیکن پھر وہ بھی حملہ آور ہو گئے اور فلسطینی عرب معیشت تباہ ہو گئی اور اڑھائی لاکھ فلسطینی عرب یا تو ملک چھوڑ کر گئے یا پھر انہیں نکال دیا گیا۔

14 مئی 1948ء کو برطانوی اقتدار کے ختم ہونے سے ایک دن قبل جیوش ایجنسی کے سربراہ ڈیوڈ بن گوریان نے مملکت اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا۔

اگلے دن چار عرب ملکوں، مصر، شام، اردن اور عراق کی افواج فلسطین میں داخل ہو گئیں اور 1948 کی عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی۔ سعودی عرب نے مصری سربراہی میں فوجی بھیجے اور یمن نے اعلان جنگ تو کیا لیکن براہ راست شریک نہ ہوا۔ عرب ممالک نے جنگ شروع کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ خون خرابا بند ہو اور یہ ان کے ممالک تک نہ پھیل جائے۔ ایک سال کی جنگ کے بعد جنگ بندی ہوئی اور موجود ویسٹ بینک اور جنوبی یروشلم پر اردن نے قبضہ کر لیا تھاجبکہ مصر کے قبضے میں غزہ کی پٹی آئی۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اسرائیل سے 7 لاکھ فلسطینی یا تو نکل گئے یا انہیں نکال دیا گیا۔

11 مئی 1949ء کو اقوام متحدہ میں اکثریتی رائے سے اسرائیل کو رکن منتخب کر لیا گیا۔ ابتدائی برسوں میں وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان سیاسی طور پر سب سے نمایاں رہے۔ اسی دوران مرگ انبوہ سے بچنے والے افراد اور دیگر مسلمان اور عرب ممالک سے نکالے گئے یہودیوں نے بھی اسرائیل کا رخ کیا اور محض دس برسوں میں اسرائیل کی آبادی آٹھ لاکھ سے بڑھ کر بیس لاکھ ہو گئی۔ اس لیے اس عرصے میں خوراک، ملبوسات اور فرنیچر کی راشن بندی ہوئی تھی۔

اسرائیل کو آنے والے بعض افراد اس نیت سے آئے تھے کہ انہیں یہاں بہتر زندگی ملے گی، کچھ لوگوں کو ان کے آبائی ممالک میں نشانہ بنایا جاتا تھا اور کئی لوگ صیہونی فلسفے پر یقین رکھتے تھے۔ ان پناہ گزین افراد کو ان کے آبائی وطن کے حوالے سے الگ الگ سلوک کا سامنا تھا۔ یورپ سے آنے والے یہودیوں کو معاشی اور معاشرتی اعتبار سے اہمیت دی جاتی تھی اس لیے انہیں پہلے آنے کا حق دیا جاتا تھا اور عربوں کے چھوڑے مکانات بھی انہیں پہلے دیے جاتے تھے۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے آنے والے یہودیوں کے بارے عام رائے یہ تھی کہ وہ سست، غریب اور مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے پسماندہ ہوتے ہیں اس لیے انہیں مہاجر کیمپوں میں زیادہ عرصہ انتظار کرنا پڑتا تھا کہ انہیں اجتماعی زندگی کے لیے مناسب نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یہ مسائل اس حد تک بڑھے کہ اس پر تصادم شروع ہو گئے جو آئندہ برسوں میں بڑھتے چلے گئے۔

1950 کی دہائی میں اسرائیل پر فلسطینی فدائیوں کے حملے عام بات تھے جن کی اکثریت مصری زیر انتظام غزہ کی پٹی سے آتی تھی۔ 1956 میں مصر نے نہر سوئیز کو قومیا کر اسرائیلی جہازوں کے لیے بند کر دی۔ برطانیہ سے خفیہ معاہدے کے بعد اسرائیل نے جزیرہ نما سینائے پر حملہ کیا لیکن بین الاقوامی دباؤ پر اسرائیل نے اپنی فوجیں واپس بلا لیں اور یہ معاہدہ طے پایا کہ اسرائیل کی تجارتی آمد و رفت بحر احمر اور نہر سوئیز سے جاری رہے گی۔

1960 کی دہائی کے اوائل میں اسرائیل نے مرگ انبوہ کا ایک اہم مجرم اڈولف ایچمین ارجنٹائن سے پکڑا اور پھر اسے اسرائیل لا کر اس پر مقدمہ چلایا گیا۔ اسرائیل کی عدالت سے سزائے موت پانے والا یہ واحد شخص ہے۔

جنگیں اور امن معاہدے

1964 سے عرب ممالک اس خدشے کے پیش نظر کہ اسرائیل دریائے اردن کا رخ موڑ کر انہیں پانی سے محروم کر دے گا، خود اس دریا کا رخ موڑنے پر کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل، شام اور لبنان کے درمیان مسائل بڑھ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق 1967 میں اسرائیل نے جب غزہ کی پٹی پر قبضہ کیا تو فلسطین کے پانی کے حقوق پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

عرب قوم پرستوں نے جمال عبد الناصر کی قیادت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔ 1967 میں مسائل اتنے بڑھ گئے کہ عرب ممالک نے اپنی فوجوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا تو اسرائیل نے پہل کرتے ہوئے چھ روزہ جنگ شروع کی۔ جنگ میں اسرائیلی فضائیہ نے عرب مخالفین مصر، اردن، شام اور عراق پر اپنی برتری ثابت کر دی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی، ویسٹ بینک، جزیرہ نما سینائی اور گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا۔ یروشلم کی حدود کو بڑھا دیا گیا اور مشرقی یروشلم بھی اسرائیل کے قبضے میں آ گیا۔

جنگ کے بعد اسرائیل کو فلسطینیوں کی طرف سے مزاحمت اور سینائی میں مصر کی جانب سے جھڑپوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دیگر گروہوں کی نسبت 1964 میں بننے والی پی ایل او نے ابتدا میں خود کو "مادر وطن کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد" کے لیے وقف کر دیا تھا۔ 1960 کی دہائی کے اواخر اور 1970 کی دہائی کے اوائل میں فلسطینی گروہوں نے اسرائیل اور دنیا بھر میں یہودی مقامات اور افراد کو نشانہ بنائے رکھا جس میں 1972 کے میونخ اولمپکس میں اسرائیلی کھلاڑیوں کا قتل عام بھی شامل ہے۔ جواب میں اسرائیل نے اس قتل عام کے منصوبہ بندوں کے خلاف قتل کی مہم شروع کی اور لبنان میں پی ایل او کے صدر دفتر پر بھی بمباری کی۔

6 اکتوبر 1973 کو یہودی یوم کپور کا تہوار منا رہے تھے کہ مصر اور شام کی افواج نے جزیرہ نما سینائی اور گولان کی پہاڑیوں پر حملہ کر دیا۔ یہ جنگ 26 اکتوبر کو اسرائیل کی فتح پر ختم ہوئی لیکن اسے کافی سخت نقصانات اٹھانے پڑے۔ اگرچہ اندرونی تحقیقات سے حکومت کی کوئی کمی یا کوتاہی نہیں نکلی لیکن عوامی دباؤ پر وزیر اعظم گولڈا میئر نے استعفا دے دیا۔

جولائی 1976 میں اسرائیلی کمانڈوز نے یوگنڈا کے ائیرپورٹ پر محبوس 102 افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا جسے پی ایل او کے گوریلوں نے یرغمال بنایا ہوا تھا۔

1977 کے انتخابات میں لیکوئڈ پارٹی نے لیبر پارٹی کی جگہ حکمرانی سنبھال لی۔ بعد میں اسی سال مصری صدر انور السادات نے اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا اور اسرائیلی قومی اسمبلی سے بھی خطاب کیا۔ کسی بھی عرب سربراہ مملکت کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

11 مارچ 1978 کو پی ایل او کے گوریلوں نے لبنان سے حملہ کر کے 38 اسرائیلی شہریوں کو قتل کیا۔ اسرائیل نے جواب میں جنوبی لبنان پر حملہ کر کے پی ایل او کے مراکز تباہ کر دیے۔ پی ایل او کے گوریلے پسپا ہو گئے لیکن اسرائیل نے لبنان کی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فوج کے آنے تک انتظام سنبھالے رکھا۔ جلد ہی پی ایل او کے گوریلوں نے اسرائیل پر جنوبی جانب سے حملے کرنا شروع کر دیے جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی مسلسل زمینی اور فضائی جوابی کاروائیاں جاری رکھیں۔

اسی دوران میں بیگن کی حکومت نے یہودیوں کو مقبوضہ غربی کنارے پر آباد ہونے کے لیے سہولیات دینا شروع کیں تو عربوں اور اسرائیلیوں کے مابین کشمکش اور تیز ہو گئی۔ 1980 میں منظور ہونے والے بنیادی قانون کے تحت یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دیا گیا جو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی فیصلہ ہے اور غربی کنارے پر یہودیوں کی آبادکاری کو بھی بین الاقوامی برادری کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 1981 میں اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا اگرچہ بین الاقوامی طور پر اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

7 جون 1981 کو اسرائیلی فضائیہ نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر کو تباہ کیا جو بغداد کے پاس ہی واقع تھا۔ 1982 میں پی ایل او کے مسلسل حملوں کے جواب میں اسرائیل نے لبنان میں پی ایل او کے مراکز کو تباہ کر دیا۔ جنگ کے ابتدائی چھ دنوں میں اسرائیل نے پی ایل او کے مراکز کو اردن میں تباہ کر دیا اور شامیوں کو شکست دی۔ اسرائیلی حکومتی تحقیقاتی کمیشن جسے کاہان کمیشن کے نام جانا جاتا ہے، نے بیگن، شیرون اور دیگر کئی اعلٰی حکومتی عہدیداروں کو صابرہ اور شتیلہ کے قتلِ عام کا ذمہ دار قرار دیا۔ 1985 میں قبرص میں ہونے والے فلسطینی دہشت گرد حملے کے جواب میں تیونس میں پی ایل او کے صدر دفتر کو تباہ کر دیا۔ اسرائیل اگرچہ 1986 میں لبنان کے زیادہ تر حصے سے نکل آیا تھا لیکن اس نے جنوبی لبنان میں حفاظتی بفر زون 2000 تک قائم رکھے۔

فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف ہونے والا پہلا انتفادہ 1987 میں شروع ہوا اور غربی کنارے اور غزہ میں مظاہرے اور تشدد پھوٹ پڑا۔ اگلے چھ سال تک انتفادہ زیادہ مربوط ہوتا گیا اور اس کا نشانہ اسرائیلی معیشت اور ثقافت تھیں۔ اس دوران میں ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن کی اکثریت فلسطینی نوجوان تھے جو اسرائیلی فوج پر پتھر پھینکتے تھے۔ شمالی اسرائیل پر پی ایل او کے مسلسل حملوں کے جواب میں اسرائیل نے 1988 میں جنوبی لبنان میں کارروائی کی۔ کویت کے بحران کے دوران میں اسرائیلی محافظین نے مسجد اقصٰی میں احتجاجی جلوس پر فائرنگ کی جس سے 20 افراد جاں بحق اور 150 زخمی ہوئے۔ 1991 کی خلیج کی جنگ کے دوران میں فلسطینیوں کی ہمدردیاں عراق کے ساتھ تھیں اور عراق نے کئی بار اسرائیل پر سکڈ میزائل سے حملے بھی کیے۔ عوامی اشتعال کے باوجود امریکا کے کہنے پر اسرائیل نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔

1992 میں یتزاک رابن وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ ان کی انتخابی مہم کا اہم پہلو اسرائیل کے ہمسائیہ ممالک سے تعلقات کی بہتری تھی۔ اگلے سال اسرائیل کی جانب سے شمعون پیریز اور پی ایل او کی طرف سے محمود عباس نے معاہدہ اوسلو پر دستخط کیے جس کے مطابق فلسطینی نیشنل اتھارٹی کو مغربی کنارے اور غزہ کی پیٹی کے انتظامی اختیارات دیے گئے۔ پی ایل او نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کیا اور دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق کیا۔ 1994 میں اسرائیل اور اردن کے درمیان میں امن معاہدہ ہوا جس سے اردن اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے والا دوسرا ملک بن گیا۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے آباد کاری کا جاری رہنا، چیک پوائنٹس قائم رہنا اور معاشی حالات کا ابتر ہونے کی وجہ سے عرب عوام میں اسرائیل مخالف جذبات ابھرے۔ اسرائیلی عوام میں اس معاہدے کے خلاف جذبات بھڑکے جب فلسطینیوں نے خود کش حملے شروع کر دیے۔ آخر کار نومبر 1995 میں ایک امن ریلی کے اختتام پر یتزاک رابن کو ایک انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے یہودی نے قتل کر دیا۔

1990 کی دہائی کے آخر پر اسرائیل بنجامن نیتن یاہو کی زیر قیادت ہیبرون سے نکل گیا اور ایک معاہدے کے تحت فلسطینی نیشنل اتھارٹی کو زیادہ اختیارات دیے۔ 1999 میں ایہود باراک کو وزیرِ اعظم چنا گیا اور نئے ملینیا کے آغاز پر اسرائیلی افواج جنوبی لبنان سے نکل گئیں اور فلسطینی اتھارٹی کے چیئرمین یاسر عرفات اور ایہود باراک کے درمیان میں امریکی صدر بل کلنٹن کے کیمپ ڈیوڈ میں باہمی مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات میں ایہود باراک نے فلسطینی ریاست کے قیام کی پیشکش کی جسے یاسر عرفات نے ٹھکرا دیا۔ مذاکرات کے ناکام ہونے پر اور لیکوڈ پارٹی کے ایریل شیرون کی جانب سے الحرم الشریف کے متنازع دورے کے بعد یاسر عرفات نے دوسرے انتفادہ کا آغاز کر دیا۔ 2001 کے خصوصی انتخابات کے بعد شیرون وزیر اعظم بنے اور انہوں نے غزہ کی پٹی سے یک طرفہ انخلا مکمل کیا اور اسرائیلی مغربی کنارے کی رکاوٹوں کی تعمیر جاری رکھی اور دوسرے انتفادہ کو بے کار کر دیا۔

جولائی 2006 میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر بمباری کی اور سرحد عبور کر کے دو اسرائیلی فوجی اغوا کر لیے۔ نتیجتاً ایک ماہ لمبی دوسری لبنان کی جنگ شروع ہوئی۔ 6 ستمبر 2007 کو اسرائیلی فضائیہ نے شام کے نیوکلئیر ری ایکٹر کو تباہ کر دیا۔ 2008 میں اسرائیل نے تصدیق کی کہ وہ ترکی کے ذریعے ایک سال سے شام سے امن کی بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہوتے ہی ایک اور لڑائی شروع ہو گئی۔ غزہ کی جنگ تین ہفتے جاری رہی اور پھر اسرائیل کی جانب سے یک طرفہ جنگ بندی ہو گئی۔ حماس نے اپنی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا اور شرائط میں مکمل فوجی انخلا اور سرحد کو کھولنا رکھا۔ راکٹ حملوں اور اسرائیلی فوجی کاروائیوں کے باوجود جنگ بندی کا معاہدہ چل رہا ہے۔ فلسطینیوں کی طرف سے 100 سے زیادہ راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے 14 نومبر 2012 کو غزہ پر فوجی کارروائی کی جو آٹھ روز جاری رہی۔

Other Languages
العربية: إسرائيل
فارسی: اسرائیل
English: Israel
Acèh: Israèl
Адыгэбзэ: Исраел
адыгабзэ: Исраил
Afrikaans: Israel
Alemannisch: Israel
አማርኛ: እስራኤል
Ænglisc: Israhēl
aragonés: Israel
ܐܪܡܝܐ: ܐܝܣܪܐܝܠ
armãneashti: Israel
arpetan: Israèl
অসমীয়া: ইজৰাইল
asturianu: Israel
Avañe'ẽ: Isera'éle
azərbaycanca: İsrail
تۆرکجه: ايسرائيل
bamanankan: Israil
বাংলা: ইসরায়েল
Bân-lâm-gú: Í-sek-lia̍t
башҡортса: Израиль
беларуская: Ізраіль
беларуская (тарашкевіца)‎: Ізраіль
भोजपुरी: इजराइल
Bikol Central: Israel
български: Израел
Boarisch: Israel
bosanski: Izrael
brezhoneg: Israel
буряад: Израиль
català: Israel
Чӑвашла: Израиль
Cebuano: Israel
čeština: Izrael
chiShona: Israel
chiTumbuka: Israel
corsu: Israele
Cymraeg: Israel
dansk: Israel
davvisámegiella: Israel
Deutsch: Israel
ދިވެހިބަސް: އިސްރާއީލު
dolnoserbski: Israel
eesti: Iisrael
Ελληνικά: Ισραήλ
español: Israel
Esperanto: Israelo
estremeñu: Israel
euskara: Israel
Fiji Hindi: Israel
føroyskt: Ísrael
français: Israël
Frysk: Israel
Gaeilge: Iosrael
Gaelg: Israel
Gagauz: İsrail
Gàidhlig: Iosrael
galego: Israel
贛語: 以色列
Gĩkũyũ: Israel
ગુજરાતી: ઈઝરાયલ
𐌲𐌿𐍄𐌹𐍃𐌺: 𐌹𐍃𐍂𐌰𐌴𐌻
गोंयची कोंकणी / Gõychi Konknni: इस्राएल
客家語/Hak-kâ-ngî: Yî-set-lie̍t
한국어: 이스라엘
Hausa: Isra'ila
Hawaiʻi: ʻIseraʻela
Հայերեն: Իսրայել
हिन्दी: इज़राइल
hornjoserbsce: Israel
hrvatski: Izrael
Ido: Israel
Igbo: Israel
Ilokano: Israel
বিষ্ণুপ্রিয়া মণিপুরী: ইসরাইল
Bahasa Indonesia: Israel
interlingua: Israel
Interlingue: Israel
Ирон: Израиль
isiZulu: Isreyili
íslenska: Ísrael
italiano: Israele
עברית: ישראל
Basa Jawa: Israèl
kalaallisut: Israel
ಕನ್ನಡ: ಇಸ್ರೇಲ್
Kapampangan: Israel
ქართული: ისრაელი
kaszëbsczi: Izrael
қазақша: Израиль
kernowek: Ysrael
Kinyarwanda: Isirayeli
Kiswahili: Israel
коми: Израиль
Kongo: Israel
Kreyòl ayisyen: Izrayèl
Kurdî: Îsraêl
Кыргызча: Асрайыл
Ladino: Israel
лезги: Израиль
لۊری شومالی: إسرائيل
Latina: Israël
latviešu: Izraēla
Lëtzebuergesch: Israel
lietuvių: Izraelis
Ligure: Isræ
Limburgs: Israël
lingála: Israel
Livvinkarjala: Izrail
la .lojban.: brogu'e
lumbaart: Israel
magyar: Izrael
मैथिली: इजरायल
македонски: Израел
Malagasy: Isiraely
മലയാളം: ഇസ്രയേൽ
Malti: Iżrael
Māori: Iharaira
मराठी: इस्रायल
მარგალური: ისრაელი
مصرى: اسرائيل
مازِرونی: اسرائیل
Bahasa Melayu: Israel
Mìng-dĕ̤ng-ngṳ̄: Ī-sáik-liĕk
Mirandés: Eisrael
мокшень: Израиль
монгол: Израиль
မြန်မာဘာသာ: အစ္စရေးနိုင်ငံ
Nāhuatl: Israel
Dorerin Naoero: Iteraer
Na Vosa Vakaviti: Isireli
Nederlands: Israël
Nedersaksies: Israël
नेपाली: इजरायल
नेपाल भाषा: इजरायल
日本語: イスラエル
Napulitano: Israele
нохчийн: Израиль
Nordfriisk: Israel
Norfuk / Pitkern: Esrail
norsk: Israel
norsk nynorsk: Israel
Novial: Israel
occitan: Israèl
ଓଡ଼ିଆ: ଇସ୍ରାଏଲ
Oromoo: Isiraa'el
oʻzbekcha/ўзбекча: Isroil
ਪੰਜਾਬੀ: ਇਜ਼ਰਾਇਲ
पालि: इस्रैल
Pälzisch: Israel
پنجابی: اسرائیل
Papiamentu: Israel
پښتو: اسرائيل
Patois: Izrel
Перем Коми: Исраэль
ភាសាខ្មែរ: អ៊ីស្រាអែល
Piemontèis: Israel
Tok Pisin: Israel
Plattdüütsch: Israel
polski: Izrael
Ποντιακά: Ισραήλ
português: Israel
Qaraqalpaqsha: İzrail
qırımtatarca: İsrail
Ripoarisch: Israel
română: Israel
Romani: Israel
Runa Simi: Israyil
русиньскый: Ізраіль
русский: Израиль
саха тыла: Исраил
Gagana Samoa: Isalaeru
संस्कृतम्: इजराइल
sardu: Israele
Scots: Israel
Seeltersk: Israel
Sesotho sa Leboa: Israel
shqip: Izraeli
sicilianu: Israeli
Simple English: Israel
SiSwati: Ka-Israyeli
slovenčina: Izrael
slovenščina: Izrael
словѣньскъ / ⰔⰎⰑⰂⰡⰐⰠⰔⰍⰟ: Їꙁдраил҄ь
ślůnski: Izrael
Soomaaliga: Israaiil
کوردی: ئیسرائیل
Sranantongo: Israel
српски / srpski: Израел
srpskohrvatski / српскохрватски: Izrael
Basa Sunda: Israél
suomi: Israel
svenska: Israel
Tagalog: Israel
தமிழ்: இசுரேல்
Taqbaylit: Israyil
tarandíne: Isdraele
татарча/tatarça: Исраил
తెలుగు: ఇజ్రాయిల్
tetun: Izraél
тоҷикӣ: Исроил
ᏣᎳᎩ: ᎢᏏᎵᏱ
ತುಳು: ಇಸ್ರೇಲ್
Türkçe: İsrail
Türkmençe: Ysraýyl
удмурт: Израиль
українська: Ізраїль
ئۇيغۇرچە / Uyghurche: ئىسرائىلىيە
Vahcuengh: Israel
vèneto: Israełe
vepsän kel’: Izrail'
Tiếng Việt: Israel
Volapük: Yisraelän
Võro: Iisrael
文言: 以色列
West-Vlams: Israël
Winaray: Israel
Wolof: Israayil
吴语: 以色列
ייִדיש: ישראל
Yorùbá: Ísráẹ́lì
粵語: 以色列
Zazaki: İsrail
Zeêuws: Israël
žemaitėška: Izraelis
中文: 以色列
डोटेली: इजरायल
Kabɩyɛ: Izrɛɛlɩ