ارمنی قتل عام

آرمینیائی باشندوں کو مقامی قید خانوں میں ڈالنے کے لیے گھروں سے نکالاجا رہا ہے۔ اپریل 1915ء

ارمنی قتل عام (انگریزی: Armenian Genocide، ارمنی زبان: Հայոց Ցեղասպանութիւն ، ترکی: Ermeni Soykırımı) جسے ارمنی ہولوکاسٹ، ارمنی نسل کشی اور ارمنی باشندوں کی جانب سے عظیم آفت (Մեծ Եղեռն) بھی کہا جاتا ہے، جنگ عظیم اول کے بعد سلطنت عثمانیہ کی ارمنی آبادی کے مبینہ قتل عام کو کہا جاتا ہے۔ ان مبینہ واقعات میں قتل عام کے علاوہ جبری ملک بدری اور قید و بند کی صعوبتیں بھی شمار کی جاتی ہیں اور عموماً اس میں 10 سے 15 لاکھ ارمنی باشندوں کے قتل کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ مغربی ذرائع اسے پہلا جدید اور باقاعدہ قتل عام گردانتے ہیں اور اس کے لیے مقتولین کی مبینہ تعداد کو جواز بنایا جاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے 1905ء سے لے کر 1920ء تک آرمینیا میں موجود لاکھوں آذری مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور لاکھوں کو بے دخل کر کے آذربائیجان اور دیگر علاقوں میں جانے پر مجبور کیا گیا۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیں آرمینیا کے آذریوں کا قتل عام) ۔ 24 اپریل 1915ء کو قتل عام کی شروعات کا دن قرار دیا جاتا ہے جس دن عثمانی انتظامیہ نے قسطنطنیہ میں 250 ارمنی دانشوروں اور رہنماؤں کو گرفتار کیا۔ ارمنی اور مغربی ذرائع کا الزام ہے کہ اس کے بعد ارمنی باشندوں کو زبردستی گھروں سے نکال کر سینکڑوں میل تک شامی صحرا کی خاک چھاننے کے لیے چھوڑ دیا اور یہ کارروائی بلا تخصیص عمر و صنف کی گئی اور ارمنی خواتین کو جنسی زیادتی و جبر کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ارمنی قتل عام مرگِ انبوہ (Holocaust) کے بعد سب سے زیادہ مطالعہ کیا جانے والا قتل عام ہے۔

ترکی کا مؤقف

ترکی کے تاریخ دانوں کے مطابق ان واقعات سے پہلے 1905ء سے لے کر 1920ء تک آرمینیا میں موجود لاکھوں آذری مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور لاکھوں کو بے دخل کر کے آذربائیجان اور دیگر علاقوں میں جانے پر مجبور کیا گیا۔ یہ لوگ خود کو آذری ترک کہتے تھے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیں آرمینیا کے آذریوں کا قتل عام)۔ آرمینیا کے لوگ ایک ریاست کی تشکیل کے لیے آذربائیجان کے علاقوں پر تسلط اور آذربائیجانیوں کے قتل عام کے بعد ترکی کے کچھ علاقوں پر بھی نظر گاڑے ہوئے تھے۔ پہلی جنگ عظیم میں ترکی میں آباد آرمینیائی باشندے کھلم کھلا فرانس، برطانیہ اور روس کے حامی تھے۔ چنانچہ سلطنت عثمانیہ نے اپنا ردِ عمل دکھایا۔ اس کے علاوہ سلطنت عثمانیہ کی جانشیں ترک جمہوریہ (موجودہ ترکی) ان واقعات کو قتل عام نہیں سمجھتا بلکہ اس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ارمنی باشندوں کی تعداد بہت بڑھا چڑھا کر بیان کی جاتی ہے حالانکہ جہاں جنگ عظیم اول کے دوران سلطنت کے دیگر باشندے مارے گئے وہیں ارمنی بھی جنگ کا نشانہ بنے، ان کا باضابطہ قتل عام ہرگز نہیں کیا گیا تھا۔ حالیہ چند سالوں میں ترکی کو ارمنی قتل عام کو تسلیم کرنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا رہا ہے حتٰی کہ چند ذرائع کے مطابق ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت میں چند رکاوٹوں میں ارمنی قتل عام کو تسلیم نہ کرنا اور شمالی قبرص کا معاملہ سرفہرست ہیں۔

Other Languages
العربية: مذابح الأرمن
беларуская: Генацыд армян
Esperanto: Armena genocido
hornjoserbsce: Genocid Armenjanow
Bahasa Indonesia: Genosida Armenia
Basa Jawa: Genosida Armenia
Lëtzebuergesch: Armenesche Vëlkermuerd
македонски: Ерменски геноцид
Bahasa Melayu: Genosid Armenia
Nederlands: Armeense genocide
Simple English: Armenian Genocide
slovenščina: Armenski genocid
srpskohrvatski / српскохрватски: Armenski genocid
татарча/tatarça: Ärmännär genotsidı
українська: Геноцид вірмен
Tiếng Việt: Diệt chủng Armenia